رشتے دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو ہمیں قدرت کی طرف سے بنے بنائے ملتے ہیں اور دوسرے وہ جو ہم خود بناتے ہیں اپنی سوچ اور خواہش کے مطابق۔ لیکن دونوں ہی صورتوں میں یہ لازمی نہیں ہوتا کہ جن سے ہمارا رشتہ قدرت نے جوڑا یا ہم نے خود ہی وہ رشتہ چنا ان سے در حقیقت ہمارا تعلق بن بھی پایا یا نہیں۔ ساری زندگی ان سرابوں کے پیچھے بھاگتے رہنے کے بعد عقدہ کھلتا ہے کہ تنہائی تو ازل سے ہی مقدر بنی رہی ہے اور اس کا لامتناہی سلسلہ چلا ہی جا رہا ہے۔
وہ بھی ایسی ہی تھی رشتوں کی متلاشی۔ خون کےتعلق سے بنے ایک دھاگے میں چاہتے نا چاہتے زبردستی گلے پڑے ڈھول جیسے رشتوں کی نہیں بلکہ کسی ایسے سچے رشتے کی جو دل اور جذبے کی شدتوں کے ساتھ اسے اپناتا۔ جو اسے اپنے ظاہر ہی سے نہیں اپنی سوچ اور خواہش کے ساتھ باطن کی تمام سچائیوں سے اس کی زندگی میں شامل ہوتا۔ خواہ اس رشتے کا کوئی بھی نام ہوتا، بہن بھائی دوست یا وہ ۔۔۔ ۔ وہ انجانا شخص جس کا سوچ کر ہی لاج ایسا گھونگٹ کاڑھے کہیں سے چلی آتی کہ آگے سوچنا محال ہو جاتا اور دل جیسے قالب میں پھڑپھڑانے لگتا۔ وہ کوئی شرمیلی البیلی نار نہیں تھیدنیا کے ہر موضوع پر بے تکاں بولنے والی کی زبان پر تالے بس ایسے ہی ذکر پر پڑ جاتے۔ اور یہ چپ ہی اس کو مار گئی۔ جب قاضی نے تین بار پوچھا تو بھی وہ اسی جامد خاموشی کے ساتھ بس سر ہی ہلا سکی۔ اور جملہ حقوق کسی کے نام منتقل کر کے ہر خواہش سے دستبرداری کے اعلامیے پر دستخط کر دیے۔
یوں فرائض کا ایک طویل اعصاب شکن سلسلہ چل پڑا جس کی راہ پرخار پر جگہ جگہ دھڑکے اور وسوسے پھن پھیلائے منتظر تھے۔ بس ہر مقام پر خود کو کورا اور ان چھوا ثابت کرنا ہی مقصد رہ گیاْ عورت اور خواہش یوں بھی دو متضاد چیزیں سمجھی جاتی ہیں۔تو وہی عورت نیک اور پاکباز ٹھہرتی ہے جو بس اپنے شوہر کو مجازی خدا مانے اس کے چرنوں میں سیس نوائے بیٹھی رہے۔ دو روٹی سے بڑھ کے بھی کوئی بھوک اور طلب ہوسکتی ہے یہ تو کوئی نہیں سوچتا نا۔ پھر یہ ہوا کہ پیاس بڑھتی چلی گئی اور دل میں صحرا پھیلتا چلا گیا۔ کسے فرصت تھی کہ کوئی خوش کن اسم اس پر پڑھ کہ پھونکتا کہ وہ جو مصلوب وجود تھا پھر سے جی اٹھتا۔ پر نہیں کوئی نہیں ۔ اب یہان کوئی نہیں آنے والا تھا۔
وہ بھی ایسی ہی تھی رشتوں کی متلاشی۔ خون کےتعلق سے بنے ایک دھاگے میں چاہتے نا چاہتے زبردستی گلے پڑے ڈھول جیسے رشتوں کی نہیں بلکہ کسی ایسے سچے رشتے کی جو دل اور جذبے کی شدتوں کے ساتھ اسے اپناتا۔ جو اسے اپنے ظاہر ہی سے نہیں اپنی سوچ اور خواہش کے ساتھ باطن کی تمام سچائیوں سے اس کی زندگی میں شامل ہوتا۔ خواہ اس رشتے کا کوئی بھی نام ہوتا، بہن بھائی دوست یا وہ ۔۔۔ ۔ وہ انجانا شخص جس کا سوچ کر ہی لاج ایسا گھونگٹ کاڑھے کہیں سے چلی آتی کہ آگے سوچنا محال ہو جاتا اور دل جیسے قالب میں پھڑپھڑانے لگتا۔ وہ کوئی شرمیلی البیلی نار نہیں تھیدنیا کے ہر موضوع پر بے تکاں بولنے والی کی زبان پر تالے بس ایسے ہی ذکر پر پڑ جاتے۔ اور یہ چپ ہی اس کو مار گئی۔ جب قاضی نے تین بار پوچھا تو بھی وہ اسی جامد خاموشی کے ساتھ بس سر ہی ہلا سکی۔ اور جملہ حقوق کسی کے نام منتقل کر کے ہر خواہش سے دستبرداری کے اعلامیے پر دستخط کر دیے۔
یوں فرائض کا ایک طویل اعصاب شکن سلسلہ چل پڑا جس کی راہ پرخار پر جگہ جگہ دھڑکے اور وسوسے پھن پھیلائے منتظر تھے۔ بس ہر مقام پر خود کو کورا اور ان چھوا ثابت کرنا ہی مقصد رہ گیاْ عورت اور خواہش یوں بھی دو متضاد چیزیں سمجھی جاتی ہیں۔تو وہی عورت نیک اور پاکباز ٹھہرتی ہے جو بس اپنے شوہر کو مجازی خدا مانے اس کے چرنوں میں سیس نوائے بیٹھی رہے۔ دو روٹی سے بڑھ کے بھی کوئی بھوک اور طلب ہوسکتی ہے یہ تو کوئی نہیں سوچتا نا۔ پھر یہ ہوا کہ پیاس بڑھتی چلی گئی اور دل میں صحرا پھیلتا چلا گیا۔ کسے فرصت تھی کہ کوئی خوش کن اسم اس پر پڑھ کہ پھونکتا کہ وہ جو مصلوب وجود تھا پھر سے جی اٹھتا۔ پر نہیں کوئی نہیں ۔ اب یہان کوئی نہیں آنے والا تھا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں