بدھ، 20 مئی، 2015

گدھ جاتی

زمانہ طالب علمی میں چھانگا مانگا کے جنگلوں میں جانے کااتفاق ہواتھا۔ وہاں ایک خوش قامت پرندے کے غول نظر آئے۔ ایک تو وہ عمر ہی حیرانی کی تھی دوسرے ہم جماعتوں کے ساتھ سیر کی شوخی، ہر شے حسین نظر آرہی تھی۔ وہ پرند ہ فی الحقیقت حسین تھا یا نہیں، اس کے جملہ عادات و خصائل سے بھی واقفیت نہیں تھی لیکن وہ دل کوبھاگیاتھا۔ یہ تھا گدھ سے میرا پہلاتعارف، حالانکہ یہ پتا چلنےکےبعد کہ یہی موصوف وہ مشہور و معروف سفاک مردار خور ہیں جو جاں بلب جاندار کے آس پاس منڈلاتے رہتے ہیں اور آخری ہچکی کے ساتھ ہی چن چن کے ماس کھا جاتے ہیں۔ کیا کہیے اس پہلی نظرکا کہ جس نے اس پرند کے لیے ایسا نرم گوشہ پیدا کردیاتھا جو ان کی ہر خطا کو حسن کی اداقرار دے رہاتھا۔ عام زندگی میں بھی ہمارا یہی معاملہ ہے۔ ہم اپنی پہلی پسند، پسند کے پیمانوں اور محبوب کی جفاکاریوں کو حسن کی اداؤں کا نام دے کر سات خون معاف کر دیتے ہیں۔ ان محبوب ِنظر افراد میں منی لانڈرنگ کی مجرمہ ایان علی ہوں یا فٹ پاتھ پہ سوئےغریبوں پر گاڑی لے کر چڑھ دوڑنے والے سلمان خان، اکثر زیرو پہ آؤٹ ہونے والے شاہد آفریدی ہوں یا کینیڈا پلٹ شیخ الاسلام، اور حسن نظر کو داد دیجیے کہ اس کیٹیگری میں پی پلاکر بیان دینے والے الطاف بھائی بھی آتے ہیں، سب کی پگڑیاں اچھالتے کپتان صاحب بھی اور کھابے اڑانے والے معززوزیراعظم صاحب بھی۔

صدا بصحرا

ٹی وی پر تین بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے ایک نیوزاینکر کے سامنے بیٹھے ہیں۔ اینکر صاحب کی دکھ سے بوجھل آواز، دھیما لہجہ لیکن بہت کچھ سخت سست کہنے کو مچلتے ان کے لب کل صبح(13 مئی) کو وقوع پذیر ہونے والے اس بربریت کے واقعے کی مذمت کرنے اور ذمہ داران کو ان کی مجرمانہ غفلت کا احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر بار بات لبوں سے نکلنے سے ذرا پہلے مصلحتوں کا دامن تھام لیتی ہے اور آنکھیں، ہاں آنکھیں ضبط گریہ سے مزید سرخ ہوئی جارہی ہیں۔

بدھ، 13 مئی، 2015

مجھے آگ کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

ہر طرف لپکتی، لپلپاتی، شعلے برساتی اور دہکتی آگ تھی۔ لوگوں کی ایمان افروز پکاریں اور نعرہ تکبیر کی صدائیں۔ آج دینی جوش و جذبہ اپنے عروج پہ تھا۔ کیا پر نور سماں تھا، آج “حق” کو “باطل” پہ فتح حاصل ہونے کوتھی۔ اہل ایمان کا جمگھٹا بڑھتا ہی جارہا تھا،چار اطراف جدھر نظریں دوڑائیے پگڑیوں، عماموں اور ٹوپیوں والےسر ہی سر تھے۔ سبھی اپنے اپنے گناہ دھونے یہاں موجود تھے۔ اور پھراپنے گناہوں سے نجات کا ایسا نادر موقع شاید ہی کبھی مل پاتا، کم سے کم انہیں یہی بتایا گیا تھا، لاوڈ سپیکر پر ان کے امام کی جانب سے۔

ہائے پسلی

حساب تو ہم نے بچپن سے پڑھا ہے، گنتی بھی خوب رٹی لیکن عملی زندگی میں استعمال کا موقع تب آیا جب ہم نے نوجوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا۔ سنا تھا کہ زندگی میں کچھ پانا ہے تو ایک دو تین پر یقین رکھنا ہے بس جی اس قول کی صداقت کا احساس دل میں لیے بس صبح شام پسلیاں گننا ہی اپنا مشغلہ ٹھہرا۔ جی ہاں! سب گنتے ہیں اپنی پسلیاں کچھ چھپا کر کچھ بتا کر، تو جناب ہم بھی اس آس پر گنتے رہتے کہ کبھی تو کوئی پسلی کم ہوگی اور چھم سے یا دھم سے کود کر ہماری زندگی میں آجائے گی۔ وہ تو کچھ معاشرتی حدود و قیود کا بھی خیال تھا اور کچھ معاش کی چادر بھی قد سے چھوٹی پڑتی تھی ورنہ ہم تو اپنی ساری ہی پسلیوں کو مجسم اپنے آگے پیچھے پھرتے دیکھنے کے خواہاں تھے۔ چاہے سینہ تان کر کھڑے ہونے کے واسطے پسلیوں کی جگہ تختے ٹھکوانے پڑجاتے۔

میری ارض پاک پر یہ کیسے عذاب اتر رہے ہیں

بچپن میں بڑوں سے جنات کے واقعات سناکرتے تھے کہ جن آتشی مخلوق ہے جو دماغ سے کام نہیں لیتی بس ذرا سی بات پہ چراغ پا ہو کر اپنے غضب کے شعلوں سے لوگوں کو بھسم کر دیا کرتی ہے۔ نہ یہ مخلوق انسانی آنکھ کو نظر آتی ہے نہ اس کا گھر اورنہ ہی کوئی کنبہ۔ جب کسی انسان کا ایسی کسی جگہ سے گزر ہو جہاں یہ مخلوق آباد ہو تو کچھ دکھائی نہ دینے کے سبب وہ انسان اگر اس مخلوق کی زندگی میں دخل اندازی کا سبب بن جائے تو غصے میں آکر یہ پوری انسانی بستی اجاڑ دیتی ہے۔ بے گناہ لوگوں کو بلا تفریق زن و بچہ یہ مخلوق بس انتقام انتقام کا نعرہ بلند کرتی ہوئی کشت و خون میں جت جاتی ہے۔

محبت کی ایک گھسی پٹی کہانی

محبت چار حرفی لفظ جو کہیں پہ بادشاہ افلاک ہے تو کہیں مطعون و راندہ درگاہ۔ محبت جس کے بارے میں سب کا اتفاق ہے الہامی جذبہ ہے۔ خدا خاص دلوں پر ودیعت کرتا ہے۔ ہم سب محبت اور محبت کرنے والوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں کیوں کہ ہم محبت کرنے والی قوم ہیں۔ہماری دھرتی سے محبت کی الہامی داستانیں جڑی ہیں جو ہم کو بتاتی ہیں کہ ہم سے زیادہ محبت کو مان دینے والا کوئی نہیں۔ ہم محبت اور محبت کرنے والوں کو عزت اورمان دیتے آئے ہیں۔ اس لیے بھی کہ محبت میں دو دل انتہائی مخلص ہوتے ہیں، ان کے لیے دنیاوی جاہ و جلال بے معنی ہوتاہے۔ شاہان وقت اپنی سلطنت کو ٹھوکر مار کر محبت کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ یہ مخصوص اور پاک دلوں پر اتاری جانے والی ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ شاعروں کی شاعری، گیتوں ،غزلوں، لوک داستانوں، رنگ دھنک، سنورنا، خوشی، سکون؛غرض کے ہر انسانی جذبے پر حاوی یہ جذبہ محبت ہے۔ اولیا اللہ کا کلام،صوفیوں کے تصوف کی بنیاد سب محبت عشق پر رکھی ہے۔ سب عشق مجازی کو عشق حقیقی اور خدا تک پہنچنے کا زریعہ گردانتے ہیں۔لیکن!!!!
چلیں کہانی شروع کرتے ہیں۔