پیر، 11 جنوری، 2016

کاغذ کا رشتہ

’’طلحہ مجھ سے بات تو کیجیے!‘‘
’’ہوں!‘‘
’’طلحہ! میں آپ سے کہہ رہی ہوں،‘‘ مریم نے اس کے کاندھےکو ہلاتے ہوئے اپنی بات دہرائی، ’’مجھ سے بات کیجیے نا! میں تھک چکی ہوں اس جامد اور ساکت خاموشی سے۔‘‘
’’بولو کیا بات کرنی ہے،‘‘ طلحہ نے سارے جہاں کی بیزاری لہجے میں سموتے ہوئے جواب دیا، جبکہ نظریں ہنوز ٹی وی پر مرکوز تھیں جہاں کوئی رقاصہ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ جلوے بکھیر رہی تھی۔
’’طلحہ! میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں، میری طرف دیکھیں تو سہی۔‘‘
’’کیا ہے بھئی، تم پہ پھر وہی دورہ پڑ گیا ہے۔‘‘ طلحہ نے قدرے رخ موڑتے ہوئے کہا۔
’’طلحہ! میں چاہتی ہوں آپ تھوڑا سا وقت مجھے بھی دے دیا کریں، ہم خوب باتیں کریں اپنے محسوسات اور اپنی مصروفیات سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں۔ میں آپ کو اپنے دل کی ہر بات۔۔۔‘‘ بولتے بولتے اسے احساس ہوا تھا کہ اس کی بات تو پھر ان سنی ہو گئی ہے۔

ہفتہ، 2 جنوری، 2016

مونچھ نامہ

سارے مردوں کی طرح ہمیں بھی اپنی مردانہ خوب صورتی پر ناز ہے، اور ناز بھی کیوں نہ ہو، ہمارے پاس دو عدد اور بحیثیت مجموعی ایک عدد گھنی سیاہ تاو دار مونچھیں جو ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ مونچھ تو مرد کی شان، آن بان، پہچان، مان، پران، جان اور کبھی کبھی بلائے جان بھی ہوا کرتی ہے، اف ! ایسا حسن جو سنبھالے نہ سنبھلتا ہو۔ تو بس ہمارے لیے بھی ہماری مونچھیں ایسی ہی تھیں جو باتوں سے نہیں بنتیں۔

سانحہ پشاور اور ہمارے آئینے

تڑاتڑ گولیاں ، دھماکوں کی آوازیں، خوف میں بسی چیخ پکار، بھاگ دوڑ، خون آگ، بارود کی بو، انسانی گوشت جلنے کی بو، خون میں بسے بھاگتے ننھے ننھے قدموں کے نشانات، اور پھر بین، آنسو، دھاڑیں مار کر رونا، آہ و بکا، ایمبولینسوں کا شور، بدحواسی، کراہیں، میڈیا کا سیلاب، ٹویٹر فیس بک و دیگر پرسوشل میڈیا ئی آنسو، دکھ درد، سسکیاں، آہیں، بد دعائیں، خدا سے رحم کی پکاریں، ہمدردیاں، مذمتیں، نیز مذمتی بیانات، فارمولہ بیانات، الزام تراشی بیانات، مذہبیانہ بیانات، کمیٹیاں، عبرت ناک سزاوں کے عزم بالجزم، اور کندھوں پر اٹھائے چھوٹے چھوٹے ایک سو اڑتیس جنازے۔
اور پھر ایک طویل خاموشی!

وہ کہیں نہیں

کہوں کیا خبر کیا ہے زندگی
ہے یہیں کہیں یا کہیں نہیں
میں نے سمجھا تھا جسےزندگی
وہ کہیں نہیں، وہ کہیں نہیں

وہ محبتوں کی گلابیاں
وہ وفاوں کی تھیں سلامیاں
میں جسے سمجھتا تھا دوستی
وہ کہیں نہیں، وہ کہیں نہیں

سر زندگی، سر بندگی
کہاں میرا راز زندگی
جسے کھوجناتھا مجھےاےجاں
وہ کہیں نہیں، وہ کہیں نہیں

یہ دکھوں بھری سی زمیں مری
یہاں کون جیتا ہے زندگی
میں نے ڈھونڈا ایسا گلی گلی
وہ کہیں نہیں، وہ کہیں نہیں

میری وحشتوں کا جو نام ہے
وہی لمس جو میری پیاس ہے
میری روح جس کی غلام ہے
وہ کہیں نہیں، وہ کہیں نہیں

سال 2016 کی پہلی صبح

نئے سال کی صبح ایک ساتھ دو سورج دیکھنے کا حیرت انگیز تجربہ
لیکن میرے دل کے آسمان پر طلوع ہونے والا سورج بلاشبہ زیادہ روشن حسین اور آب و تاب رکھتا ہے۔
میرا سورج
اپنی آب و تاب اور
انھی ست رنگی روشنیوں بھری
چمکدار آنکھوں،
دعا جیسے حسین اور ناقابل رسائی لبوں،
مغرور کھڑی ناک و بل دار پیشانی سمیت
اس نئے سال بھی
میرے دل کے آسمان پر طلوع ہوگیا ہے۔

سال کی آخری شام

سال کی آخری شام
تم اور میں
ہم ایک دوسرے میں گم
تمھاری دلکش مسکراہٹ
نظروں کابےباک پن
اور میری شرمگیں جھکی نگاہیں
ایک مکمل محبت بھرا مقدس لمحہ
چاہیں جتنے سال آئیں
جوبھی شامیں گزریں
تم اور میں اسی طرح ہمیشہ ساتھ ہوں
تو کسی بھی جدائی کا احساس
کوئی خدشہ
مجھے چھو بھی نہ پائےگا
تمھارے پیار کا ابدی سحاب
اسی طرح مجھ پر سایہ فگن رہے تو
میں یونہی پھولوں سی سبک خرام
لافانی بہاروں کے سنگ
ڈولتی پھروں گی
سنو
ہمیشہ مجھ میں رہوگے نا
اے مکین دل وجاں
مجھے
میری آخری سانس تک یونہی چاہتے رہوگے نا!
مگر !!!
یہ ڈھلتی رات کی ساعتیں
آہ یہ ساعتیں جو رگوں سے روح کھینچ رہی ہیں
یہ دل کش دل نشیں منظر
جو اک خوش فہم دل کی ناکام خواہش کاعکس ٹھہرے
اور وفا کے وعدے کو منتظر ان نگاہوں کا سوال
یونہی کسی پتھر سے ٹکرا کر لوٹ آئے تو!

منگل، 29 دسمبر، 2015

طلب

وہ جو سلگتے لمحوں کی بھڑکتی ، طلب طلب مچلتی اور ہر بن مو میں سرسراتی خون کی طرح رگوں میں دوڑتی وحشتیں ہیں نا بس ایک توجہ ایک مسکراہٹ ایک سپردگی کے احساس کی منتظر ہیں۔ ایک نرم گرم نگاہ اور بےکراں و بےتاب محبت کا پرجوش اظہار جو روم روم میں چبھتی برف سی ٹھنڈک کو اپنے لبوں کی نمی سے پگھلا دے۔ لیکن میں اپنے مقام سے جہاں بھی قدم بڑھاوں ہر طرف خلا ہے۔ ایسا خلا جو ایک قدم اٹھانے پر پاتال کی ہستیوں میں گرا دےگا۔