ہفتہ، 2 جنوری، 2016

سال کی آخری شام

سال کی آخری شام
تم اور میں
ہم ایک دوسرے میں گم
تمھاری دلکش مسکراہٹ
نظروں کابےباک پن
اور میری شرمگیں جھکی نگاہیں
ایک مکمل محبت بھرا مقدس لمحہ
چاہیں جتنے سال آئیں
جوبھی شامیں گزریں
تم اور میں اسی طرح ہمیشہ ساتھ ہوں
تو کسی بھی جدائی کا احساس
کوئی خدشہ
مجھے چھو بھی نہ پائےگا
تمھارے پیار کا ابدی سحاب
اسی طرح مجھ پر سایہ فگن رہے تو
میں یونہی پھولوں سی سبک خرام
لافانی بہاروں کے سنگ
ڈولتی پھروں گی
سنو
ہمیشہ مجھ میں رہوگے نا
اے مکین دل وجاں
مجھے
میری آخری سانس تک یونہی چاہتے رہوگے نا!
مگر !!!
یہ ڈھلتی رات کی ساعتیں
آہ یہ ساعتیں جو رگوں سے روح کھینچ رہی ہیں
یہ دل کش دل نشیں منظر
جو اک خوش فہم دل کی ناکام خواہش کاعکس ٹھہرے
اور وفا کے وعدے کو منتظر ان نگاہوں کا سوال
یونہی کسی پتھر سے ٹکرا کر لوٹ آئے تو!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں