منگل، 29 دسمبر، 2015

طلب

وہ جو سلگتے لمحوں کی بھڑکتی ، طلب طلب مچلتی اور ہر بن مو میں سرسراتی خون کی طرح رگوں میں دوڑتی وحشتیں ہیں نا بس ایک توجہ ایک مسکراہٹ ایک سپردگی کے احساس کی منتظر ہیں۔ ایک نرم گرم نگاہ اور بےکراں و بےتاب محبت کا پرجوش اظہار جو روم روم میں چبھتی برف سی ٹھنڈک کو اپنے لبوں کی نمی سے پگھلا دے۔ لیکن میں اپنے مقام سے جہاں بھی قدم بڑھاوں ہر طرف خلا ہے۔ ایسا خلا جو ایک قدم اٹھانے پر پاتال کی ہستیوں میں گرا دےگا۔

پیر، 28 دسمبر، 2015

ہستی نیستی

پھر یوں ہوا کہ
پیاس پاگل ہوگئی
آسمان اور زمین میں کہیں جگہ نہیں تھی
یہ دھرتی کا سوراخ
کیا کبھی اسے وہ بیج ملے گا جو اسے پھر سے زندہ کردے
قبریں کیوں بھاری ہوجاتی ہیں
اتنی بھاری کہ جسم ان میں معدوم ہوجاتےہیں
نفی بس نفی
جسم کا حاصل ایک نفی
میں کہیں نہیں ہوں
اور ہر جگہ ہوں
میرا ہاتھ تھامنے والا
دل نکال کر ثابت نگل گیا

جمعرات، 24 دسمبر، 2015

بین

میرے راستوں کے نشان گم ہوگئے ہیں
کوئی اندھی پگڈنڈی بےصدا بلاتی ہے
ہر راہی ہاتھ تھام لیتا ہے
اپنے رستوں کی اور کھینچنے
میری بےصدا پگڈنڈی
ہائے بےچاری خون کے نادیدہ آنسو رو رہی ہے

جسم کی قیمت مانگنےوالے
روح کو تنہا چھوڑ گئے
یہ خالی مکان کرائے پر نہیں دیا جاسکتا

کاغذ قلم اور تم

دن میں ڈھیروں کام ہوں پھر بھی
لفظوں کے تانے بانے بنتی رہتی ہوں
کتنی کہانیاں سوچ کی اندیکھی ڈور میں آ الجھتی ہیں
کچھ نک سک سے تیار بہت
بس کاغذ قلم اور ذرا فرصت کی منتظر
سب مجھ میں رہتی بستی میری کہانیاں
جونہی رات ڈھلے
میں اور میری تنہائی
کاغذ قلم اور فرصت بھی
لیکن کچھ بھی یاد نہیں رہ پاتا
صرف تمھارے

اتوار، 20 دسمبر، 2015

تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا

تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا
تیرے عشق نے ڈیرا، میرے اندر کیتا
بھر کے زہر پیالہ، میں تاں آپے پیتا
جھبدے بوہڑیں وے طبیبا، نہیں تاں میں مر گئی آ

تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا

چھپ گیا وے سُورج، باہر رہ گئی آ لالی
وے میں صدقے ہوواں، دیویں مُڑ جے وکھالی
پیرا! میں بُھل گئی آں، تیرے نال نہ گئی آ

تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا

ایس عشقے دے کولوں، مینوں ہٹک نہ مائے
لاہُو جاندڑے بیرے، کیہڑا موڑ لیائے
میری عقل جو بُھلّی، نال مہانیاں دے گئی آ

تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا

ایس عشقے دی جھنگی وچ مور بولیندا
سانوں قبلہ تے کعبہ، سوہنا یار دسیندا
سانوں گھائل کر کے، پھیر خبر نہ لئی آ

تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا

بُلھّا شَوہ نے آندا، مینوں عنایت دے بُوہے
جس نے مینوں پوائے ، چولے ساوے تے سُوہے
جاں میں ماری ہے اَڈّی، مِل پیا ہے وہیّا

تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا

Bulleh Shah
بلھے شاہ

مجھے تم سے نفرت ہے

یہ پانچ لفظی پیغام اس شخص کے نام جو مجھے تمنا کے راستے پر لایا۔ وہ شخص جو جانے کس ارادے سے آیا تھا معلوم نہیں لیکن مجھے ایک لاحاصل خواہش کا انتظار اور تڑپ تھما گیا۔ چاہے جانے کی تڑپ، محسوس کیے جانے کی طلب، کسی کے سارے وجود کی سماعت بن جانے کی طلب، اور کسی کو ٹوٹ کر چاہنے کی پیاس ۔
لیکن کہاں کہاں نہیں ٹھوکریں کھائیں، یہ دل بہت بھٹکا، بہت دھوکے کھائے، بہت خواب بنے اور پھر انھی ٹوٹے خوابوں کی بہت کرچیاں اپنی پلکوں سے چنیں۔ ہر بار درد کا صحرا عبور کر کے جو پہلا شخص کتھارسس کا ملتا ہے وہ وہی شخص ہے جس نے اس جھیل کے پرسکون پانی کی طرح ٹھہرے ہوئے جذبات میں خواہش کا پہلا کنکر پھینکا تھا۔ اور اگر اس شخص کو اپنی شدید نفرت کے اظہار کا پیغام نہ بھیج سکوں تو شاید مر ہی جاوں۔

پیر، 14 دسمبر، 2015

مرنا اور بچھڑنا

کئی دن سے میرے اسٹور روم میں ایک چوہیا کا بسیرا تھا۔ شرارتی نٹ کھٹ چوہیا جو الماریوں کے نیچے سرسر کرتی رہتی، کبھی کاغذ کترنے کی لمحہ بہ لمحہ تیز اور مدھم ہوتی آوازیں میری سماعتوں سے سرایت کرتی میرے پورے جسم میں پھریری سی بن کر دوڑتیں۔ ہاں جب میں نے اپنی الماری میں رکھے عائشہ کے نوڈلز کے کترے ہوئے پیکٹس دیکھے تو میرا ماتھا ٹھنکا۔
اب مجھے نئی فکر لاحق ہوگئی تھی کہ یہ چوہیا میرے کپڑے نہ کتر ڈالے۔ ارے یہ تومیرے کب سے سینت کر رکھے یونیورسٹی کے نوٹس بھی کتر دے گی۔ یہ نوٹس جو کبھی میرے رواں قلم کی نشانی تھے۔ سر ندیم اقبال جن کا نام ہم نے بٹراسکاچ رکھا تھا کہ ان کی قینچی سی زبان چلتی ہی جاتی اور کبھی اس تیزگام سے مقابلہ کرتے ان کے منھ سے نکلی بات اسی روانی سے لکھ دی جاتی، کبھی دوران پیریڈ دوستوں سے مکالمے بصورت مراسلے انہی نوٹس پر لکھے جاتے۔
میری الماری میں موجود ہر شے کو تہہ و بالا کر دینے کا اندیشہ بہم پہنچانے والی جسے یہاں سے بھگانے کا عزم لیے میں دن رات تراکیب سوچے جارہی تھی وہ اسی رفتار سے مختلف چیزیں کترتی جارہی تھی۔
اس عجیب بےمعنی سے رشتے کو میرا دل تو قبول کرتا لیکن میرا دماغ خطرے کی گھنٹیاں بجائے چلا جاتا۔ مجھے لگتا کہ میرے اسٹور میں آباد یہ پڑوسن جلد اپنا گھربسالیں گی اور یوں ان کی جڑیں میرے گھر نیں اور بھی گہری اور بھی مضبوط ہوجائیں گی۔ کتنی کوششیں کیں اسے پرے دھکیلنے اور اپنے دماغ پر سوار نہ کرنے کیں۔ لیکن اس نے بھی گویا تہیہ کر رکھا تھا کہ اب یہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹے گا۔ کیسا انوکھا بندھن تھا اک دوجے سے بیزار اور ہمہ وقت ایک دوسرے کے خیال سے بندھا۔ وہ مجھے دیکھ کر گھبرا جاتی اور میں اسے دیکھ کر بھاگ ہی تو پڑتی۔
آج بھی بیٹھے بٹھائے مجھے یاد آیا کہ الماری میں تو میری کالج اور یونیورسٹی کے زمانے کی تصاویر بھی تھیں۔ میں بھاگی بھاگی گئی اور الماری کھولی کہ اپنی کتاب زیست کے خوشگوار لمحات پر مبنی پنوں کو سنبھال لوں کہیں یہ کم بخت چوہیا ان یادگاروں کو بھی نہ چاٹ جائے۔ مگر یہ کیا! یہاں تو عجیب ہی سانحہ بپا تھا۔ چوہیا الماری کے عین درمیان میں بےحس وحرکت پڑی تھی۔
(جب کچھ دروازے بند ہوئے ہوں،کچھ مان ٹوٹے اور سانس لینا مشکل ہوا ہو تو )
بہت روئی بہت آہ و بکا کی۔ سارا دن کے رونے کا ایک معقول جواز جو میسر آگیا تو کب کے رکے انسو پلکوں کے بند توڑ کر بہہ نکلے۔ وہ مرگئی۔
مرنا اور بچھڑنا کائنات کی سب سے عظیم حقیقت

بدھ، 9 دسمبر، 2015

بدلتے رحجانات

مُلا جو کبھی ایک مثبت سوچ کا حامل شخص تھا، داڑھی جو کبھی تقدس کی علامت تھی، شلوار قمیض شریفوں کا لبادہ، اور دین مساوات محبت اور امن کا پرچارک۔ لیکن یہ سب علامتیں اور نشانیاں اب ایک پراسرار اور خوف میں لپٹی کہانیاں کیوں بن گئی ہیں۔؟
مسجدیں جو کبھی امن اور عافیت کی جگہیں تھیں وہاں بالخصوص بچوں کے جنسی استحصال کی کہانیاں ہیں یا پھر اشتعال انگیزی پر مبنی وعظ ، اور کبھی خود کش دھماکے، لیکن کیوں؟
جو دروازے لوگوں پر چوبیس گھنٹے کھلے رہتے تھے اب ان کے اوقات مقرر ہیں اور آنے جانے والوں خاص طور پر ہر نو وارد کو مشکوک نظروں سے گھورا جاتا ہے۔ اللہ کے گھر کی حفاظت انسان کر رہے ہیں۔ لیکن سوال وہی کہ اس حفاظت کی نوبت کیوں کر آئی۔

منگل، 8 دسمبر، 2015

میرے تم

رات کا یہ پہر تنہائی میں اور میرے ساتھ تم!
ہاں تم، جو اب ہر لمحہ ہر ساعت ہر آن میرے ہی ساتھ رہتے ہو۔ تم سے جڑنے کا احساس اتنا جانفزا ہے کہ میری پور پور اس محبت کی برکھا میں بھیگ گئی ہے۔ جب تم کو سوچوں، کہیں تمھاری آواز سنوں یا تم سے وابستہ کوئی بات، تمھارا کوئی پیغام سامنے آئے، تمھارا پسندیدہ نغمہ، تمھارے نام سے ملتا جلتا کوئی نام ، سیاہ لباس یا تمھارا لہجہ ہر شے تمھارا نام لیتی ہے۔ نرم گلابی سرسراتا ریشم و مخملیں سا تمھارے لبوں کا لمس، میرے لبوں پر کیسی انجانی پیاس جگاتا ہے۔ تم جب میرا ہاتھ تھامتے ہو تو کیف و سرور کی لہریں کیسے میرے رگ و پے میں دوڑ جاتی ہیں اور میں سبک ہواوں میں بادلوں کے سنگ تیرنے لگتی ہوں ۔ جب کبھی تمھاری دست درازیاں ، تمھاری شوخیاں اور بے قراریاں تمھاری مست آنکھوں سے، تمھارے مچلتے ہاتھوں، اور تمھارے ہر انداز سے میری سمت بڑھتی ہیں تو میرا وجود کن طوفانوں کی زد پر آجاتا ہے۔ میں کبھی تمھیں نہ بتا پاوں گی کہ تمھاری انکھوں کے رنگوں سے حسین تو کوئی رنگ میں نے دیکھا ہی نہیں۔ تمھاری وہ مجھ پر اٹھی نگاہ ، وہ رکا رکا سا تبسم زیرلب، وہ
میرے پیروں پر اپنے پیر رکھ دینا، یہ سب میری زندگی میں کتنے رنگ بھر دیتے ہیں۔ تمھارے لب اور بالخصوص تمھارا وہ بالائی لب، اف کتنا حسین ہے نا تمھارا وہ نرم گرم گویا میری زبان کے انتظار میں زرا اٹھا ہوا وہ بالائی لب، کیسے کیسے نہ دل مچل جایا کرتا ہے اس لب کے ایک بوسے کے لیے۔
مجھے تمھاری طرف بڑھنا اور تمھیں اپنے پاس قریب اور قریب اور قریب ، بہت قریب ہونا بےحد پسند ہے۔

پیر، 7 دسمبر، 2015

اعتراف

میں جب تم سے بات نہیں کر رہی ہوتی نا، اس وقت بہت ذہنی اذیت سے گزر رہی ہوتی ہوں۔ نارمل حالت میں یہ ممکن ہی کب ہے کہ تم سے بات نہ کروں۔ اور جب میں تم سے نفرت اور بے زاری کا اظہار کروں تو وہ اتنا ہی جھوٹ ہوتا ہے جتنا سورج کا مغرب سے نکلنا۔ اور جب میں تمھیں کہتی ہوں نا کہ مجھے تمھاری ضرورت نہیں مجھ سے بات نہ کرو اور مجھے چھوڑ جاو اس وقت درحقیقت میرا روم روم پکار رہا ہوتا ہے کہ مجھے چھوڑ کر نہ جاو، مجھ سے بات کرو، مجھے تمھاری بہت ضرورت ہے، میرے قاتل میرے دل دار میرے ساتھ رہو۔

اتوار، 6 دسمبر، 2015

علامتی ہجر

دوستا! ایسا مقام آتا ہے محبت میں۔ جب وہ وحشتوں کا ساتھی ہی نہ بن پائے جب وہ پستیوں کا ہمراہی نہ ہو آنسووں میں بھیگی ہماری شاموں میں وہ اپنی دنیا میں مگن موسیقی و فلموں میں گم خوشیوں کے ہنڈولے میں جھول رہا ہو ، جب ہم اقرار اور پیار بھری ایک صدا ایک لفظ پر جی اٹھنے کے منتظر ہوں اور ہماری سماعتیں پیاسی رہ جائیں تو، جب اس کے لفظوں میں ہماری اس تمام تڑپ اور نزعی کیفیت کے لیے اس کے ذہن و دل کی بیزاری اس کے لفظوں میں بھی در آئے تو کیا کہیں؟
یہی وہ مرحلہ ہے نا جب راہیں ایک نہیں رہ پاتیں۔ جب اسے پا کر اور اس کے ہوتے بھی نارسائی ہے، جب دل نے خالی ہی رہنا ہے، جب لبوں کی پیاس اسی طرح قطرے قطرے کو ترستی ہی رہنی ہے، جب ملن میں بھی ہجر نے ڈیرے جمائے ہوں تو یہ دل کیا چاہے۔

بدھ، 2 ستمبر، 2015

پاکستان کوئز

قیام پاکستان، پاکستان کے انتظامی ڈھانچے اور اہم معلومات پاکستان پر مبنی سوال و جواب

رمضان مبارک میں بالخصوص اور سارے سال دیگر انعامی سلسلوں پر مبنی پروگرامز میں یہ بات جو شدت سے میں نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ عوام کی اکثریت ان بنیادی معلومات سے قطعی بے بہرہ تھی جو بحیثیت مسلمان اور بحیثیت پاکستانی ہمیں لازمی طور پر معلوم ہونی چاہیے۔ بنیادی اسلامی معلومات پر مبنی کوئز ضرور میرے ارادوں میں شامل رہا ہے لیکن اس اہم سنگ میل کو عبور کرنے اور اس میں حائل فقہی اور مسلکی اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تیاری میں کچھ وقت لگے گا، لیکن پاکستان کوئز کی تیاری چونکہ جملہ فقہی اور مولویانہ اثرات سے پاک تھی اس لیے یہ تیار کرنا میرے لیے چنداں دشوار ثابت نہ ہوا۔ تاہم یہ ابھی نامکمل ادھورا ضرور قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ناقص کوشش ہرگز نہیں ہے کیوں کہ آج کل جن حالات سے ہمارا ملک گزر رہا ہے، مختلف ثقافتی یلغاریں اور ایک طبقے کی جانب سے مسلسل قیام پاکستان کے فیصلے کی حوصلہ شکنی اور اس ضمن میں مسلمانوں کی کوششوں پر مبنی تاریخ کو مسخ کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے تو میں یہ ضروری سمجھتی ہوں کہ ہم اپنی نسلوں کو اپنے ملک اور تشخص کے حوالے سے ضروری معلومات بہم پہنچائیں۔

میری یہ کوشش احباب کی نذر ہے۔

پاکستان کوئز فائنل

بدھ، 20 مئی، 2015

گدھ جاتی

زمانہ طالب علمی میں چھانگا مانگا کے جنگلوں میں جانے کااتفاق ہواتھا۔ وہاں ایک خوش قامت پرندے کے غول نظر آئے۔ ایک تو وہ عمر ہی حیرانی کی تھی دوسرے ہم جماعتوں کے ساتھ سیر کی شوخی، ہر شے حسین نظر آرہی تھی۔ وہ پرند ہ فی الحقیقت حسین تھا یا نہیں، اس کے جملہ عادات و خصائل سے بھی واقفیت نہیں تھی لیکن وہ دل کوبھاگیاتھا۔ یہ تھا گدھ سے میرا پہلاتعارف، حالانکہ یہ پتا چلنےکےبعد کہ یہی موصوف وہ مشہور و معروف سفاک مردار خور ہیں جو جاں بلب جاندار کے آس پاس منڈلاتے رہتے ہیں اور آخری ہچکی کے ساتھ ہی چن چن کے ماس کھا جاتے ہیں۔ کیا کہیے اس پہلی نظرکا کہ جس نے اس پرند کے لیے ایسا نرم گوشہ پیدا کردیاتھا جو ان کی ہر خطا کو حسن کی اداقرار دے رہاتھا۔ عام زندگی میں بھی ہمارا یہی معاملہ ہے۔ ہم اپنی پہلی پسند، پسند کے پیمانوں اور محبوب کی جفاکاریوں کو حسن کی اداؤں کا نام دے کر سات خون معاف کر دیتے ہیں۔ ان محبوب ِنظر افراد میں منی لانڈرنگ کی مجرمہ ایان علی ہوں یا فٹ پاتھ پہ سوئےغریبوں پر گاڑی لے کر چڑھ دوڑنے والے سلمان خان، اکثر زیرو پہ آؤٹ ہونے والے شاہد آفریدی ہوں یا کینیڈا پلٹ شیخ الاسلام، اور حسن نظر کو داد دیجیے کہ اس کیٹیگری میں پی پلاکر بیان دینے والے الطاف بھائی بھی آتے ہیں، سب کی پگڑیاں اچھالتے کپتان صاحب بھی اور کھابے اڑانے والے معززوزیراعظم صاحب بھی۔

صدا بصحرا

ٹی وی پر تین بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے ایک نیوزاینکر کے سامنے بیٹھے ہیں۔ اینکر صاحب کی دکھ سے بوجھل آواز، دھیما لہجہ لیکن بہت کچھ سخت سست کہنے کو مچلتے ان کے لب کل صبح(13 مئی) کو وقوع پذیر ہونے والے اس بربریت کے واقعے کی مذمت کرنے اور ذمہ داران کو ان کی مجرمانہ غفلت کا احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر بار بات لبوں سے نکلنے سے ذرا پہلے مصلحتوں کا دامن تھام لیتی ہے اور آنکھیں، ہاں آنکھیں ضبط گریہ سے مزید سرخ ہوئی جارہی ہیں۔

بدھ، 13 مئی، 2015

مجھے آگ کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

ہر طرف لپکتی، لپلپاتی، شعلے برساتی اور دہکتی آگ تھی۔ لوگوں کی ایمان افروز پکاریں اور نعرہ تکبیر کی صدائیں۔ آج دینی جوش و جذبہ اپنے عروج پہ تھا۔ کیا پر نور سماں تھا، آج “حق” کو “باطل” پہ فتح حاصل ہونے کوتھی۔ اہل ایمان کا جمگھٹا بڑھتا ہی جارہا تھا،چار اطراف جدھر نظریں دوڑائیے پگڑیوں، عماموں اور ٹوپیوں والےسر ہی سر تھے۔ سبھی اپنے اپنے گناہ دھونے یہاں موجود تھے۔ اور پھراپنے گناہوں سے نجات کا ایسا نادر موقع شاید ہی کبھی مل پاتا، کم سے کم انہیں یہی بتایا گیا تھا، لاوڈ سپیکر پر ان کے امام کی جانب سے۔

ہائے پسلی

حساب تو ہم نے بچپن سے پڑھا ہے، گنتی بھی خوب رٹی لیکن عملی زندگی میں استعمال کا موقع تب آیا جب ہم نے نوجوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا۔ سنا تھا کہ زندگی میں کچھ پانا ہے تو ایک دو تین پر یقین رکھنا ہے بس جی اس قول کی صداقت کا احساس دل میں لیے بس صبح شام پسلیاں گننا ہی اپنا مشغلہ ٹھہرا۔ جی ہاں! سب گنتے ہیں اپنی پسلیاں کچھ چھپا کر کچھ بتا کر، تو جناب ہم بھی اس آس پر گنتے رہتے کہ کبھی تو کوئی پسلی کم ہوگی اور چھم سے یا دھم سے کود کر ہماری زندگی میں آجائے گی۔ وہ تو کچھ معاشرتی حدود و قیود کا بھی خیال تھا اور کچھ معاش کی چادر بھی قد سے چھوٹی پڑتی تھی ورنہ ہم تو اپنی ساری ہی پسلیوں کو مجسم اپنے آگے پیچھے پھرتے دیکھنے کے خواہاں تھے۔ چاہے سینہ تان کر کھڑے ہونے کے واسطے پسلیوں کی جگہ تختے ٹھکوانے پڑجاتے۔

میری ارض پاک پر یہ کیسے عذاب اتر رہے ہیں

بچپن میں بڑوں سے جنات کے واقعات سناکرتے تھے کہ جن آتشی مخلوق ہے جو دماغ سے کام نہیں لیتی بس ذرا سی بات پہ چراغ پا ہو کر اپنے غضب کے شعلوں سے لوگوں کو بھسم کر دیا کرتی ہے۔ نہ یہ مخلوق انسانی آنکھ کو نظر آتی ہے نہ اس کا گھر اورنہ ہی کوئی کنبہ۔ جب کسی انسان کا ایسی کسی جگہ سے گزر ہو جہاں یہ مخلوق آباد ہو تو کچھ دکھائی نہ دینے کے سبب وہ انسان اگر اس مخلوق کی زندگی میں دخل اندازی کا سبب بن جائے تو غصے میں آکر یہ پوری انسانی بستی اجاڑ دیتی ہے۔ بے گناہ لوگوں کو بلا تفریق زن و بچہ یہ مخلوق بس انتقام انتقام کا نعرہ بلند کرتی ہوئی کشت و خون میں جت جاتی ہے۔

محبت کی ایک گھسی پٹی کہانی

محبت چار حرفی لفظ جو کہیں پہ بادشاہ افلاک ہے تو کہیں مطعون و راندہ درگاہ۔ محبت جس کے بارے میں سب کا اتفاق ہے الہامی جذبہ ہے۔ خدا خاص دلوں پر ودیعت کرتا ہے۔ ہم سب محبت اور محبت کرنے والوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں کیوں کہ ہم محبت کرنے والی قوم ہیں۔ہماری دھرتی سے محبت کی الہامی داستانیں جڑی ہیں جو ہم کو بتاتی ہیں کہ ہم سے زیادہ محبت کو مان دینے والا کوئی نہیں۔ ہم محبت اور محبت کرنے والوں کو عزت اورمان دیتے آئے ہیں۔ اس لیے بھی کہ محبت میں دو دل انتہائی مخلص ہوتے ہیں، ان کے لیے دنیاوی جاہ و جلال بے معنی ہوتاہے۔ شاہان وقت اپنی سلطنت کو ٹھوکر مار کر محبت کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ یہ مخصوص اور پاک دلوں پر اتاری جانے والی ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ شاعروں کی شاعری، گیتوں ،غزلوں، لوک داستانوں، رنگ دھنک، سنورنا، خوشی، سکون؛غرض کے ہر انسانی جذبے پر حاوی یہ جذبہ محبت ہے۔ اولیا اللہ کا کلام،صوفیوں کے تصوف کی بنیاد سب محبت عشق پر رکھی ہے۔ سب عشق مجازی کو عشق حقیقی اور خدا تک پہنچنے کا زریعہ گردانتے ہیں۔لیکن!!!!
چلیں کہانی شروع کرتے ہیں۔