پیر، 28 دسمبر، 2015

ہستی نیستی

پھر یوں ہوا کہ
پیاس پاگل ہوگئی
آسمان اور زمین میں کہیں جگہ نہیں تھی
یہ دھرتی کا سوراخ
کیا کبھی اسے وہ بیج ملے گا جو اسے پھر سے زندہ کردے
قبریں کیوں بھاری ہوجاتی ہیں
اتنی بھاری کہ جسم ان میں معدوم ہوجاتےہیں
نفی بس نفی
جسم کا حاصل ایک نفی
میں کہیں نہیں ہوں
اور ہر جگہ ہوں
میرا ہاتھ تھامنے والا
دل نکال کر ثابت نگل گیا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں