جمعرات، 24 دسمبر، 2015

کاغذ قلم اور تم

دن میں ڈھیروں کام ہوں پھر بھی
لفظوں کے تانے بانے بنتی رہتی ہوں
کتنی کہانیاں سوچ کی اندیکھی ڈور میں آ الجھتی ہیں
کچھ نک سک سے تیار بہت
بس کاغذ قلم اور ذرا فرصت کی منتظر
سب مجھ میں رہتی بستی میری کہانیاں
جونہی رات ڈھلے
میں اور میری تنہائی
کاغذ قلم اور فرصت بھی
لیکن کچھ بھی یاد نہیں رہ پاتا
صرف تمھارے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں