دن میں ڈھیروں کام ہوں پھر بھی
لفظوں کے تانے بانے بنتی رہتی ہوں
کتنی کہانیاں سوچ کی اندیکھی ڈور میں آ الجھتی ہیں
کچھ نک سک سے تیار بہت
بس کاغذ قلم اور ذرا فرصت کی منتظر
سب مجھ میں رہتی بستی میری کہانیاں
جونہی رات ڈھلے
میں اور میری تنہائی
کاغذ قلم اور فرصت بھی
لیکن کچھ بھی یاد نہیں رہ پاتا
صرف تمھارے
لفظوں کے تانے بانے بنتی رہتی ہوں
کتنی کہانیاں سوچ کی اندیکھی ڈور میں آ الجھتی ہیں
کچھ نک سک سے تیار بہت
بس کاغذ قلم اور ذرا فرصت کی منتظر
سب مجھ میں رہتی بستی میری کہانیاں
جونہی رات ڈھلے
میں اور میری تنہائی
کاغذ قلم اور فرصت بھی
لیکن کچھ بھی یاد نہیں رہ پاتا
صرف تمھارے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں