اتوار، 6 دسمبر، 2015

علامتی ہجر

دوستا! ایسا مقام آتا ہے محبت میں۔ جب وہ وحشتوں کا ساتھی ہی نہ بن پائے جب وہ پستیوں کا ہمراہی نہ ہو آنسووں میں بھیگی ہماری شاموں میں وہ اپنی دنیا میں مگن موسیقی و فلموں میں گم خوشیوں کے ہنڈولے میں جھول رہا ہو ، جب ہم اقرار اور پیار بھری ایک صدا ایک لفظ پر جی اٹھنے کے منتظر ہوں اور ہماری سماعتیں پیاسی رہ جائیں تو، جب اس کے لفظوں میں ہماری اس تمام تڑپ اور نزعی کیفیت کے لیے اس کے ذہن و دل کی بیزاری اس کے لفظوں میں بھی در آئے تو کیا کہیں؟
یہی وہ مرحلہ ہے نا جب راہیں ایک نہیں رہ پاتیں۔ جب اسے پا کر اور اس کے ہوتے بھی نارسائی ہے، جب دل نے خالی ہی رہنا ہے، جب لبوں کی پیاس اسی طرح قطرے قطرے کو ترستی ہی رہنی ہے، جب ملن میں بھی ہجر نے ڈیرے جمائے ہوں تو یہ دل کیا چاہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں