میرے راستوں کے نشان گم ہوگئے ہیں
کوئی اندھی پگڈنڈی بےصدا بلاتی ہے
ہر راہی ہاتھ تھام لیتا ہے
اپنے رستوں کی اور کھینچنے
میری بےصدا پگڈنڈی
ہائے بےچاری خون کے نادیدہ آنسو رو رہی ہے
جسم کی قیمت مانگنےوالے
روح کو تنہا چھوڑ گئے
یہ خالی مکان کرائے پر نہیں دیا جاسکتا
کوئی اندھی پگڈنڈی بےصدا بلاتی ہے
ہر راہی ہاتھ تھام لیتا ہے
اپنے رستوں کی اور کھینچنے
میری بےصدا پگڈنڈی
ہائے بےچاری خون کے نادیدہ آنسو رو رہی ہے
جسم کی قیمت مانگنےوالے
روح کو تنہا چھوڑ گئے
یہ خالی مکان کرائے پر نہیں دیا جاسکتا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں