جمعرات، 24 دسمبر، 2015

بین

میرے راستوں کے نشان گم ہوگئے ہیں
کوئی اندھی پگڈنڈی بےصدا بلاتی ہے
ہر راہی ہاتھ تھام لیتا ہے
اپنے رستوں کی اور کھینچنے
میری بےصدا پگڈنڈی
ہائے بےچاری خون کے نادیدہ آنسو رو رہی ہے

جسم کی قیمت مانگنےوالے
روح کو تنہا چھوڑ گئے
یہ خالی مکان کرائے پر نہیں دیا جاسکتا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں