مُلا جو کبھی ایک مثبت سوچ کا حامل شخص تھا، داڑھی جو کبھی تقدس کی علامت تھی، شلوار قمیض شریفوں کا لبادہ، اور دین مساوات محبت اور امن کا پرچارک۔ لیکن یہ سب علامتیں اور نشانیاں اب ایک پراسرار اور خوف میں لپٹی کہانیاں کیوں بن گئی ہیں۔؟
مسجدیں جو کبھی امن اور عافیت کی جگہیں تھیں وہاں بالخصوص بچوں کے جنسی استحصال کی کہانیاں ہیں یا پھر اشتعال انگیزی پر مبنی وعظ ، اور کبھی خود کش دھماکے، لیکن کیوں؟
جو دروازے لوگوں پر چوبیس گھنٹے کھلے رہتے تھے اب ان کے اوقات مقرر ہیں اور آنے جانے والوں خاص طور پر ہر نو وارد کو مشکوک نظروں سے گھورا جاتا ہے۔ اللہ کے گھر کی حفاظت انسان کر رہے ہیں۔ لیکن سوال وہی کہ اس حفاظت کی نوبت کیوں کر آئی۔
مسجدیں جو کبھی امن اور عافیت کی جگہیں تھیں وہاں بالخصوص بچوں کے جنسی استحصال کی کہانیاں ہیں یا پھر اشتعال انگیزی پر مبنی وعظ ، اور کبھی خود کش دھماکے، لیکن کیوں؟
جو دروازے لوگوں پر چوبیس گھنٹے کھلے رہتے تھے اب ان کے اوقات مقرر ہیں اور آنے جانے والوں خاص طور پر ہر نو وارد کو مشکوک نظروں سے گھورا جاتا ہے۔ اللہ کے گھر کی حفاظت انسان کر رہے ہیں۔ لیکن سوال وہی کہ اس حفاظت کی نوبت کیوں کر آئی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں