منگل، 8 دسمبر، 2015

میرے تم

رات کا یہ پہر تنہائی میں اور میرے ساتھ تم!
ہاں تم، جو اب ہر لمحہ ہر ساعت ہر آن میرے ہی ساتھ رہتے ہو۔ تم سے جڑنے کا احساس اتنا جانفزا ہے کہ میری پور پور اس محبت کی برکھا میں بھیگ گئی ہے۔ جب تم کو سوچوں، کہیں تمھاری آواز سنوں یا تم سے وابستہ کوئی بات، تمھارا کوئی پیغام سامنے آئے، تمھارا پسندیدہ نغمہ، تمھارے نام سے ملتا جلتا کوئی نام ، سیاہ لباس یا تمھارا لہجہ ہر شے تمھارا نام لیتی ہے۔ نرم گلابی سرسراتا ریشم و مخملیں سا تمھارے لبوں کا لمس، میرے لبوں پر کیسی انجانی پیاس جگاتا ہے۔ تم جب میرا ہاتھ تھامتے ہو تو کیف و سرور کی لہریں کیسے میرے رگ و پے میں دوڑ جاتی ہیں اور میں سبک ہواوں میں بادلوں کے سنگ تیرنے لگتی ہوں ۔ جب کبھی تمھاری دست درازیاں ، تمھاری شوخیاں اور بے قراریاں تمھاری مست آنکھوں سے، تمھارے مچلتے ہاتھوں، اور تمھارے ہر انداز سے میری سمت بڑھتی ہیں تو میرا وجود کن طوفانوں کی زد پر آجاتا ہے۔ میں کبھی تمھیں نہ بتا پاوں گی کہ تمھاری انکھوں کے رنگوں سے حسین تو کوئی رنگ میں نے دیکھا ہی نہیں۔ تمھاری وہ مجھ پر اٹھی نگاہ ، وہ رکا رکا سا تبسم زیرلب، وہ
میرے پیروں پر اپنے پیر رکھ دینا، یہ سب میری زندگی میں کتنے رنگ بھر دیتے ہیں۔ تمھارے لب اور بالخصوص تمھارا وہ بالائی لب، اف کتنا حسین ہے نا تمھارا وہ نرم گرم گویا میری زبان کے انتظار میں زرا اٹھا ہوا وہ بالائی لب، کیسے کیسے نہ دل مچل جایا کرتا ہے اس لب کے ایک بوسے کے لیے۔
مجھے تمھاری طرف بڑھنا اور تمھیں اپنے پاس قریب اور قریب اور قریب ، بہت قریب ہونا بےحد پسند ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں