پیر، 14 دسمبر، 2015

مرنا اور بچھڑنا

کئی دن سے میرے اسٹور روم میں ایک چوہیا کا بسیرا تھا۔ شرارتی نٹ کھٹ چوہیا جو الماریوں کے نیچے سرسر کرتی رہتی، کبھی کاغذ کترنے کی لمحہ بہ لمحہ تیز اور مدھم ہوتی آوازیں میری سماعتوں سے سرایت کرتی میرے پورے جسم میں پھریری سی بن کر دوڑتیں۔ ہاں جب میں نے اپنی الماری میں رکھے عائشہ کے نوڈلز کے کترے ہوئے پیکٹس دیکھے تو میرا ماتھا ٹھنکا۔
اب مجھے نئی فکر لاحق ہوگئی تھی کہ یہ چوہیا میرے کپڑے نہ کتر ڈالے۔ ارے یہ تومیرے کب سے سینت کر رکھے یونیورسٹی کے نوٹس بھی کتر دے گی۔ یہ نوٹس جو کبھی میرے رواں قلم کی نشانی تھے۔ سر ندیم اقبال جن کا نام ہم نے بٹراسکاچ رکھا تھا کہ ان کی قینچی سی زبان چلتی ہی جاتی اور کبھی اس تیزگام سے مقابلہ کرتے ان کے منھ سے نکلی بات اسی روانی سے لکھ دی جاتی، کبھی دوران پیریڈ دوستوں سے مکالمے بصورت مراسلے انہی نوٹس پر لکھے جاتے۔
میری الماری میں موجود ہر شے کو تہہ و بالا کر دینے کا اندیشہ بہم پہنچانے والی جسے یہاں سے بھگانے کا عزم لیے میں دن رات تراکیب سوچے جارہی تھی وہ اسی رفتار سے مختلف چیزیں کترتی جارہی تھی۔
اس عجیب بےمعنی سے رشتے کو میرا دل تو قبول کرتا لیکن میرا دماغ خطرے کی گھنٹیاں بجائے چلا جاتا۔ مجھے لگتا کہ میرے اسٹور میں آباد یہ پڑوسن جلد اپنا گھربسالیں گی اور یوں ان کی جڑیں میرے گھر نیں اور بھی گہری اور بھی مضبوط ہوجائیں گی۔ کتنی کوششیں کیں اسے پرے دھکیلنے اور اپنے دماغ پر سوار نہ کرنے کیں۔ لیکن اس نے بھی گویا تہیہ کر رکھا تھا کہ اب یہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹے گا۔ کیسا انوکھا بندھن تھا اک دوجے سے بیزار اور ہمہ وقت ایک دوسرے کے خیال سے بندھا۔ وہ مجھے دیکھ کر گھبرا جاتی اور میں اسے دیکھ کر بھاگ ہی تو پڑتی۔
آج بھی بیٹھے بٹھائے مجھے یاد آیا کہ الماری میں تو میری کالج اور یونیورسٹی کے زمانے کی تصاویر بھی تھیں۔ میں بھاگی بھاگی گئی اور الماری کھولی کہ اپنی کتاب زیست کے خوشگوار لمحات پر مبنی پنوں کو سنبھال لوں کہیں یہ کم بخت چوہیا ان یادگاروں کو بھی نہ چاٹ جائے۔ مگر یہ کیا! یہاں تو عجیب ہی سانحہ بپا تھا۔ چوہیا الماری کے عین درمیان میں بےحس وحرکت پڑی تھی۔
(جب کچھ دروازے بند ہوئے ہوں،کچھ مان ٹوٹے اور سانس لینا مشکل ہوا ہو تو )
بہت روئی بہت آہ و بکا کی۔ سارا دن کے رونے کا ایک معقول جواز جو میسر آگیا تو کب کے رکے انسو پلکوں کے بند توڑ کر بہہ نکلے۔ وہ مرگئی۔
مرنا اور بچھڑنا کائنات کی سب سے عظیم حقیقت

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں