منگل، 29 دسمبر، 2015

طلب

وہ جو سلگتے لمحوں کی بھڑکتی ، طلب طلب مچلتی اور ہر بن مو میں سرسراتی خون کی طرح رگوں میں دوڑتی وحشتیں ہیں نا بس ایک توجہ ایک مسکراہٹ ایک سپردگی کے احساس کی منتظر ہیں۔ ایک نرم گرم نگاہ اور بےکراں و بےتاب محبت کا پرجوش اظہار جو روم روم میں چبھتی برف سی ٹھنڈک کو اپنے لبوں کی نمی سے پگھلا دے۔ لیکن میں اپنے مقام سے جہاں بھی قدم بڑھاوں ہر طرف خلا ہے۔ ایسا خلا جو ایک قدم اٹھانے پر پاتال کی ہستیوں میں گرا دےگا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں