ہر طرف لپکتی، لپلپاتی، شعلے برساتی اور دہکتی آگ تھی۔ لوگوں کی ایمان افروز پکاریں اور نعرہ تکبیر کی صدائیں۔ آج دینی جوش و جذبہ اپنے عروج پہ تھا۔ کیا پر نور سماں تھا، آج “حق” کو “باطل” پہ فتح حاصل ہونے کوتھی۔ اہل ایمان کا جمگھٹا بڑھتا ہی جارہا تھا،چار اطراف جدھر نظریں دوڑائیے پگڑیوں، عماموں اور ٹوپیوں والےسر ہی سر تھے۔ سبھی اپنے اپنے گناہ دھونے یہاں موجود تھے۔ اور پھراپنے گناہوں سے نجات کا ایسا نادر موقع شاید ہی کبھی مل پاتا، کم سے کم انہیں یہی بتایا گیا تھا، لاوڈ سپیکر پر ان کے امام کی جانب سے۔
۔۔۔۔۔۔۔
یہ تحریر ’’لالٹین‘‘ پر شائع ہوچکی ہے۔
ایک جانی پہچانی حدت محسوس کرتے ہوئے خون سے آلودہ چپکتی آنکھیں بمشکل کھول کر اس نے ایک آخری کوشش کے طور پر ہجوم پر ایک نظر دوڑائی اور رحم کی بھیک مانگی۔ نگاہوں کے سامنے بھڑکتی اینٹوں کی بھٹی تھی اور اردگرد بھڑکتا ہجوم۔ یا خدا! دل سے بے اختیار پکار اٹھی تھی۔مگر خدا خاموش تھا۔ خدا کو وہاں موجود ہونے کی ضرورت بھی نہیں تھی، لوگوں کے دلوں میں خدا کی محبت اس شدت سے موجود تھی کہ خدا کے وہاں ٹھہرنے کی گنجائش نہیں تھی۔کم سے کم انہیں آج تک یہی سکھایا گیا تھا خدا سے محبت کے اظہار کے لئے کسی کی جان لینے یا اپنی جان دینے کے سوا انہیں کوئی تیسرا راستہ نہیں بتایا گیا تھا۔ زندہ رہنے اور زندگی گزارنے کا راستہ بھلا کر محض یہ بتایا گیا تھا کہ جان لینے اور دینے سے بڑھ کر خدا کے ہاں مقبولیت کا کوئی اور معیار نہیں۔
تڑپ کر خود کو چھڑانے اور وہاں سے بھاگ نکلنے کی آخری کوشش بھی بے سود ثابت ہوئی اور اسے اور اس کے شوہر کو دہکتی بھٹی میں دھکیل دیا گیا،شعلوں کی پیاسی زبانوں کو جیسے قرار مل گیا۔ پلک جھپکتے ہی دونوں جسموں کو شعلوں نے ڈھانپ لیا۔ آگ کی سرخی اب اور بھی گہری تھی، ماحول گوشت کے جلنے کی بو سے بوجھل فضا اہل ایمان کے لیے اب معطر تھی۔ ہلچل کی جگہ اب سکون کا راج تھا۔
وہ تین لوگ جل کر مٹ گئے تھے۔ تین؟ ہاں وہ تین لوگ، شہزاد، شمع اور شمع کے بطن میں سانس لیتی ایک ننھی بےگناہ جان۔ نہیں وہ ننھی جان بھی گناہ گار ہی تھی۔ وہ بے گناہ ہوتی تو یہ شعلے نمرود کی بھڑکائی آگ کی طرح سرد نہ ہو جاتے؟ اور تو اور یہ اینٹوں کی بھٹی بھی انسانوں کی طرح ہی بے مروت نکلی تمام ععمر کے ساتھ کا بھی لحاظ نا کیا اور ان کو نگل گئی۔
چشم تصور گزشتہ دو دن سے یہی منظر دکھارہی ہے اور دل ان گناہ گاروں کے گناہ پہ گریہ کناں۔ کیا تھا جو وہ بدبخت شمع ہی کچھ پڑھی لکھی ہوتی، کم از کم اسے یہ اندازہ تو ہوتا کہ وہ جو جلانے جا رہی ہے وہ ردی کے ٹکڑے نہیں خود اس کا اپنا نصیب ہے۔ وہ ناہنجار شہزاد، جو کسی شاہ کا زائیدہ نہیں ایک مزدور کی اولاد تھا۔ افلاس کا مارا۔ اسے ضرورت ہی کیا تھا کسی جھگڑے میں پڑنے کی، سر جھکا کے کرتا رہتا اپنا کام۔ مٹی کا کیڑا مٹی میں سر چھپائے پڑا رہے تو بچا رہتا ہے سر اٹھائے تو سر کچل ہی دیا جاتا ہے۔ اس نے سر اٹھایا بھی تو کس کے سامنے، اپنے مالک کے! مالک جو زمینی خدا اور زمین پہ خدا کا روپ ہوتا ہے۔ خدا سے الجھنے کا تو یہی انجام ہوتا ہے۔ ضرور ان تین بچوں کا قصور تھا جو وہ اقلیتی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اب جھیلتے رہیں یتیمی کا عذاب۔
میں کیوں سوچے جا رہی ہوں ان کے بارے میں۔ مجھے تو آگ کے عذاب سے خوف آتا ہے۔ اب میں ایسی بھی بے وقوف نہیں جو شمع اور شہزاد کا نوحہ لکھوں، زور قلم اس بات پہ صرف کروں کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ نہیں نہیں وہ سن لیں گے، وہ دیکھ لیں گے۔ میرے بھی آگے اولاد ہے۔ میں کیا جانوں ابھی ان کا جذبہ ایمانی سرد نہ ہوا ہو اورکچھ شرارے باقی ہوں۔ اور میں بھی تو اہل ایمان میں سے ہی ہوں۔ شمع اور شہزاد جیسوں کے لیے آواز اٹھانے پر خدا کے بندوں نے مجھے معاف نا کیا تو؟ قیامت سے قبل ہی دوزخ کا دہکتا عذاب کون برداشت کر سکتا ہے۔ نہیں!مجھے نا دنیا میں جلنا ہے نا آخرت میں، لہذا عافیت اسی میں ہی ہے کہ آنکھ ، کان اور زبان بند ہی رکھےجائیں، کیوں کہ مجھے آگ سے اور آگ میں جلنے کے عذابسے خوف آتا ہے۔
یہ تحریر ’’لالٹین‘‘ پر شائع ہوچکی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں