پیر، 11 جنوری، 2016

کاغذ کا رشتہ

’’طلحہ مجھ سے بات تو کیجیے!‘‘
’’ہوں!‘‘
’’طلحہ! میں آپ سے کہہ رہی ہوں،‘‘ مریم نے اس کے کاندھےکو ہلاتے ہوئے اپنی بات دہرائی، ’’مجھ سے بات کیجیے نا! میں تھک چکی ہوں اس جامد اور ساکت خاموشی سے۔‘‘
’’بولو کیا بات کرنی ہے،‘‘ طلحہ نے سارے جہاں کی بیزاری لہجے میں سموتے ہوئے جواب دیا، جبکہ نظریں ہنوز ٹی وی پر مرکوز تھیں جہاں کوئی رقاصہ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ جلوے بکھیر رہی تھی۔
’’طلحہ! میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں، میری طرف دیکھیں تو سہی۔‘‘
’’کیا ہے بھئی، تم پہ پھر وہی دورہ پڑ گیا ہے۔‘‘ طلحہ نے قدرے رخ موڑتے ہوئے کہا۔
’’طلحہ! میں چاہتی ہوں آپ تھوڑا سا وقت مجھے بھی دے دیا کریں، ہم خوب باتیں کریں اپنے محسوسات اور اپنی مصروفیات سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں۔ میں آپ کو اپنے دل کی ہر بات۔۔۔‘‘ بولتے بولتے اسے احساس ہوا تھا کہ اس کی بات تو پھر ان سنی ہو گئی ہے۔